جونپوریکم ستمبر (ایس او نیوز؍ یواین آئی) وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے صدر پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا عزم لے کر اقتدار میں آئی مرکز کی نریندر مودی حکومت کروڑوں ہندو لوگوں کے جذبات پر توجہ دینے کی بجائے ٹرپل طلاق کی پیروی میں مصروف ہیں ۔
توگڑیا نے جمعرات کی شام یہاں صحافیوں سے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے رام مندر کی تعمیر کے وعدے کے ساتھ2014میں مرکز میں اقتدار حاصل کیا تھا مگر ہر بار کی طرح اس بار بھی بی جے پی اس حساس مسئلے کو بھول گئی اور اقلیتی کمیونٹی میں خواتین کے دلوں میں جگہ بنانے کے لئے ٹرپل طلاق کی زور و شور سے پیروی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت بغیر وعدے کے جی ایس ٹی اور ٹرپل طلاق قانون منظور کرا سکتی ہے لیکن جس وعدے نے اسے اقتدار کی چوٹی پر پہنچایا، اسے رام مندر کی تعمیر کے وعدے کی ذرا بھی فکر نہیں یا یوں کہا جائے کہ کیا ہوا وعدہ یاد تک نہیں ہے ۔
انہوں نےسوال کیا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اگر مندر کی تعمیر کے لیے راہ ہموار نہیں کرا پائیں گے تو کیا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان مندر بنانے یہاں آئیں گے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت کسی کی ہو رام مندر تو بن کر رہے گا۔رام جنم بھومی کی تعمیر کے لئے وجئے دشمی کے بعد31اکتوبر کو لکھنؤ سے اجودھیاکوچ کریں گے۔اس سے پہلے ملک میں30کروڑ ہندوؤں کی مدد سے دستخطی مہم چلائی جائے گی۔